Tuesday, July 18, 2017

::: ہم جِنس پرستی مکروہ ترین گناہ :::


:::::: ہم جِنس پرستی مکروہ ترین گناہ   :::::::
بِسّمِ اللَّہِ الرّ حمٰنِ الرَّحیم
اِنَّ اَلحَمدَ لِلِّہِ نَحمَدہ، وَ نَستَعِینہ، وَ نَستَغفِرہ، وَ نَعَوذ بَاللَّہِ مِن شرورِ أنفسِنَا وَ مِن سِیَّأاتِ أعمَالِنَا ، مَن یَھدِ ہ اللَّہُ فَلا مُضِلَّ لَہ ُ وَ مَن یُضلِل ؛ فَلا ھَاديَ لَہ ُ، وَ أشھَد أن لا إِلٰہَ إِلَّا اللَّہ وَحدَہ لا شَرِیکَ لَہ ، وَ أشھَد أن مُحمَداً عَبدہُ، وَ رَسو لہُ ::: بے شک خالص تعریف اللہ کے لیے ہے ، ہم اُس کی ہی تعریف کرتے ہیں اور اُس سے ہی مدد طلب کرتے ہیں اور اُس سے ہی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں اپنی جانوں کی بُرائی سے اور اپنے گندے کاموں سے ، جِسے اللہ ہدایت دیتا ہے اُسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا ، اور جِسے اللہ گُمراہ کرتا ہے اُسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ کے عِلاوہ کوئی سچا اور حقیقی معبود نہیں اور وہ اکیلا ہے اُس کا کوئی شریک نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں :
 السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
اِنسانی مُعاشرے میں ابلیس کے پیروکار ہمیشہ سے ہی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اُس کی ناراضگی اور عذاب والے کاموں کی ترویج میں  اپنے پیر  و مُرشد کے لیے کام کرتے چلے آرہے ہیں ، کبھی سب کچھ جانتے سمجھتے ہوئے، اور کبھی انجانے میں ،
یہ لوگ، جو بظاہر ہوتے تو اِنسان ہی ہیں ، اور بسا اوقات مُسلمانوں کے نام و نسب  بھی رکھتے ہیں ، لیکن درحقیقت یہ اِنسانیت کی تمام حُدود سے خارج ہو چکے ہوتے ہیں ، اور ایسے کاموں میں ملوث ہوتے ہیں اور اُن کاموں کی طرف مائل کرتے ہیں جن کاموں سے  کوئی بھی صاف اور اچھی ذہنیت والا اِنسان کراھت کرتا ہے ، خواہ مُسلمان ہو یا کافر ،
کیونکہ وہ اچھی طرح سے سمجھتا ہے کہ وہ کام اِنسان کے کرنے کے ہیں ہی نہیں ،
اِنہی کاموں میں سے ایک کام  جِنسی تعلقات  کی آزادی ہے ، اور اِس آزادی کا ایک انداز ہم جِنس پرستی ہے ، 
اِنسان کو اُس کی  خواہشات کی تکمیل  کے لیے آزاد سمجھنے اور سمجھانے والے  "اِنسانی اور اخلاقی پابندیوں سے آزاد  ، بلکہ حیوانیت کی حدود سے بھی خارج ہو جانے والے "وہ لوگ  جو "لبرلز " کہلاتے ہیں ،  اِنسانوں کو دِینی، مذھبی، اخلاقی ، حتیٰ کہ فِطری  اِنسانی پابندیوں سے بھی آزاد کروانے کے لیے اپنے آقا ابلیس کے ہر فلسفے کا پرچار کرتے ہیں ،
یہ لوگ  کِسی بھی قِسم کے اِنسانی ، مُعاشرتی ، اخلاقی اور دِینی ضوابط کا کوئی بھی لحاظ رکھے  بغیر  جنسی طلب کی تکمیل کو بھی اِنسان کا ایک ایسا حق بنا کر دِکھانے اور سمجھانے کی کوششیں کر  تے ہیں  جِس کے لیے اِنسان کو کِسی بھی قِسم کی کوئی پابندی قُبول نہیں کرنا چاہیے ،
 اِن میں سے کچھ ایسے ہیں جو کِسی بھی رشتے کا کوئی معمولی سا تقدس بھی رَوا نہیں رکھتے ، ہر رشتہ اُن کے ہاں جنسی طلب کی  تکمیل کے لیے حلال ہے،
کچھ ایسے بھی ہیں جو اِنسان اور جانور کے مابین تعلق کو بھی صد فی صد اِنسانی حق ، اور اِنسان کو اِس حق کے حصول میں مکمل آزاد قرار دیتے ہیں ،
اور کچھ ایسے ہیں جو  ہم جِنس پرستی کو بھی اِنسان کا حق قرار دیتے ہیں ، اور اِس مکروہ ترین گناہ کو ایک فِطری تقاضے کی تکمیل کے فِطری ذرائع میں شُمار کرتے ہیں ،
اِن لوگوں کی یہ سب لاف و گزاف سوائے شیطانی وحی کے اور کچھ نہیں ، کیونکہ یہ رحمانی وحی کے بالکل خِلاف ہے،
میرے مُسلمان بھائیوں ، بہنو، آیے پڑھتے اور سمجھتے ہیں کہ ہمارے ، اور ساری ہی مخلوق کے اکیلے خالق اللہ جلّ جلالہُ نے اِس کراھت سے بھرے ہوئے گناہ کے بارے میں کیا فرمایا ہے ،
لیکن اِس سے پہلے اپنے اِیمان کی تقویت کے لیے ، اور ابلیس اور اُس کے مُریدوں کے فلسفوں  کی دُھند میں گم ہونے سے بچنے کے  لیے اپنے رب اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھیے (((أَ  لَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ :::  کیا وہ نہیں جانتا جِس نے تخلیق کیا اور (جبکہ) وہ  بہت باریک بین اور خُوب خبر رکھنے والا ہے )))سُورت المُلک (67)/آیت 14،
محترم قارئین  ، غور فرمایے ، کیا اِس میں کِسی بھی قِسم کے کِسی بھی شک کی کوئی بھی گنجائش ہے کہ خالق سے بڑھ کر اپنی مخلوق کو جاننے والا کوئی اور بھی ہو سکتا ہے ، اُمید کرتا ہوں کہ  آپ اپنے رب اللہ تبارک و تعالیٰ  کے اِس مذکورہ بالا فرمان مُبارک پر  یقین و اِیمان قائم رکھتے ہوں گے کہ اِنسان کےخالق سے بڑھ کر اُس کے بارے میں کوئی بھی اور نہیں جانتا کہ اُس کی اِس مخلوق کی حقیقت کیا ہے ، 
رہا معاملہ اِنسان کا اپنے آپ کو جاننے کا ، تو اُس کی حقیقت بھی خالق عزّ و جلّ نے  بہت واضح فرما دِی ہے ، کہ ،
اِنسان کمزور ہے ، خواہ وہ بظاہر کِسی بھی انداز میں کتنا ہی طاقتور دِکھائی دیتا ہو، لیکن درحقیقت اپنے نفس اور ابلیس کی دھوکہ بازیوں کے سامنے  کمزور ہے ، بہت جلد دھوکہ کھا جاتا ہے ،
::: دلیل ::: (((وَخُلِقَ الْإِنسَانُ ضَعِيفًا::: اور اِنسان کو تو کمزور ہی بنایا گیا ہے  ))) سُورت النِساءَ  (4)/آیت28،
اور اِس میں بھی کوئی شک نہیں کہ  اِنسان جلد باز ہے ،  اور اِس جلد بازی کی وجہ سے گمراہ ہو تا ہے ،
::: دلائل ::: (((خُلِقَ الْإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ::: اِنسان کو  جلد باز  بنایا گیا ہے  ))) سُورت الانبیاءَ  (21)/آیت37،
::: :: (((  وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا:::  اور اِنسان تو  جلد باز ہے )))  سُورت الاِسراء (17)/آیت11،
اِنسان جب کِسی  بھی معاملے میں خود کو غِنی پاتا ہے ، تو سرکشی کرنے لگتا ہے ،
::: دلیل ::: (((  إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ   Oأَن رَّآهُ اسْتَغْنَىٰ:::  بے شک اِنسان سرکشی کرنے لگتا ہےO جب وہ خود کو غِنی دیکھتا ہے  ))) سُورت العلق (96)/آیات6،7،
 اللہ تعالیٰ نے اِنسان کو  عِزت و تکریم عطاء فرمائی لیکن اُن کی اکثریت اللہ تعالیٰ کے فرامین  اور اُس کی اِرسال کردہ ہدایت کی طرف سے اندھی بہری اور گونگی ہو جاتی ہے ،  اور جانوروں سے بھی بدتر ہوجاتی ہے ، پس حق اُس کی سمجھ میں نہیں آتا اور  شیطان کی پیروی اختیار کر کے اپنے آپ کو جہنم کا ایندھن بنا لیتی ہے ،
::: دلیل ::: (( (وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لَا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَا يَسْمَعُونَ بِهَا أُولَئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولَئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ::: اور یقیناً ہم نے جہنم کے لیے بہت سے جِنّات اور انسانوں کو جہنم کے لیے ہی بنایا ہے ، کہ ان کے دِل(تو)ہیں لیکن اِن (دِلوں)سے یہ سمجھتے نہیں ، اور اِن کی آنکھیں (تو) ہیں لیکن اِن(آنکھوں)سے یہ دیکھتے نہیں، اور اِن کےکان (تو) ہیں لیکن( اِن )کانوں سے یہ سُنتے نہیں ، یہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں ، بلکہ (جانوروں سے بھی)زیادہ گمراہ ہیں ، یہ ہی ہیں غافل لوگ))) سُورت الاِعراف (7)/آیت179،
اللہ پاک کی اِرسال کردہ  ہدایت سے اندھے ،  بہرے اور گونگے لوگ بالاخر  اِنسانیت کی عملی  حدود سے ہی  خارج ہو جاتے ہیں ، اُن کی عقلیں منجمد ہوچکی ہوتی ہیں ، لہذا اُنہیں اچھائی اور سچائی کی سمجھ نہیں آتی ،  سوائے اپنے آقا ابلیس کی وحی کے اُنہیں کچھ اور ٹھیک نہیں لگتا ،
میری بات کا موضوع ایسے ہی  "لبرلز" کی طرف سے نام نہاد "اِنسانی حقوق ، اور آزادی" کے جامے میں اِنسان کو ، اِنسانیت  کی عملی حُدود سے خارج کرنے والے ایک کام  "ہم جِنس پرستی "  ہے ،
اِنسان کی حقیقت ، اِنسان میں پائی جانی والی منفی صِفات کا  مختصر ساذِکر صِرف یہ سمجھانے کے لیے کیا  ہے کہ قارئین کرام پر یہ واضح ہو جائے کہ اِنسانوں کی اکثریت ،  یعنی وہ اِنسان  جو اپنے رب اللہ تعالیٰ کی ہدایات سے منہ ُ پھیرتے ہیں وہ کِس طرح شیطان کے کھلونے بن جاتے ہیں ،
اور اللہ پاک یہ فرمان (((أَ  لَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ :::  کیا وہ نہیں جانتا جِس نے تخلیق کیا اور (جبکہ) وہ  بہت باریک بین اور خُوب خبر رکھنے والا ہے ))) اِس لیے بھی ذِکر کیا کہ محترم قارئین کا اِیمان اِس حق پر مزید پختہ ہو جائے کہ خالق نے اپنے مخلوق کو جِن کاموں سے منع فرمایاہے اُسی میں مخلوق کی عافیت ہے ، دُنیاوی طور پر بھی ، دِینی طور پر بھی ، اور اُخروی طور پر بھی ،
اِنسانوں کی دو جِنس ہیں اور ظاہر ہے کہ ہم جِنس   پرستی اپنی اپنی جِنس کے فرد کے ذریعے اپنی جِنسی خواہش کی تکمیل کا نام ہے ،
اللہ پاک پر اِیمان رکھنے والے میرے مسلمان بھائیوں  بہنوں، اللہ تعالیٰ نے  صِرف اِنسانوں میں ہی نہیں ، جانوروں میں بھی مخالف جِنس کے ساتھی کو جوڑا بنایا ہے ، اِن "لبرلز " نامی حیوانات سے تو وہ اصلی حیوانات بہتر ہیں جو اپنے خالق کی مقرر کردہ فطرت  پر عمل پیرا رہتے ہیں ، اور سوائے خنزیز اور گدھے کے کوئی اور جانور  اِس کراھت زدہ گِھن آلود فعل میں ملوث نہیں ہوتے،
اللہ تعالیٰ نے اِنسان کا جوڑا مرد اور عورت بنایا ہے ، اور اِسی طرح زندگی میں بسر کرنے میں سکون و اطمینان رکھا ہے،
(((وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ::: اور اللہ کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اُس نے تم (اِنسانوں) کے لیے تمہاری ہی جِنس میں سے بیویاں بنائیں تا کہ تم لوگ (اپنی )اُس ) بیوی میں سکون پاؤ ، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت مہیا کی ، یقیناً اِس میں غور فِکر کرنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں  ))) سُورت الروم (30)/آیت21،
پس جو کوئی اِس جوڑے  کے عِلاوہ کوئی اور جوڑا بناتا ہے ، سب سے پہلے تو وہ اپنے خالق کی مقرر کردہ راہ کو چھوڑ کر اپنے لیے اللہ کی ناراضگی حاصل کرتا ہے ، اور اِس کے عِلاوہ دُنیاوی طو رپر بھی حقیقتا کوئی  سکون نہیں پاتا ، محض اپنی حیوانی خواہش کو مکمل کرتا ہے اور اُس میں ملنے والی وقتی سی ، معمولی سی جسمانی لذت کو  ابلیسی وحی کے زیر اثر سکون سمجھتا ہے،
ہم جنس پرست اپنی ہی نسلیں ختم کرنے کا سبب بنتے ہیں ، اور اِس سے پہلے ایک دفعہ پھر اپنے رب تعالیٰ کا عذاب کمانے والے بنتے ہیں ،   
(((وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَجَعَلَ لَكُم مِّنْ أَزْوَاجِكُم بَنِينَ وَحَفَدَةً وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَتِ اللَّهِ هُمْ يَكْفُرُونَ ::: اور اللہ نے تم (اِنسانوں) کے لیے تمہاری ہی جِنس میں سے بیویاں بنائیں اور تمہاری بیویوں میں سے تم لوگوں کے لیے بیٹے اور پوتے بنائے ، اور تم لوگ پاکیزہ چیزیں عطاء فرمائیں ، تو کیا تم لوگ ( اِس کے بعد بھی ) باطل پر اِیمان  رکھتے ہو، اور اللہ کی نعمت سے کفر کرتے ہو  ))) سُورت النحل (16)/آیت72،
اِس مذکورہ بالا آیت شریفہ  میں  بھی تدبر فرمایے ، قارئین کرام ،  اللہ تعالیٰ ہم اِنسانوں کی افزائش نسل کا ذریعہ ہماری بیویوں کو بنایا ہے ، اور اِسے اپنی ایک نعمت قرار دِیا ہے ، اور یقیناً  یہ حق ہے ، اور یہ بھی یقیناً حق ہے کہ  میاں بیوی  کے اِس  پاکیزہ تعلق کے عِلاوہ  اپنی  جنسی خواہش کی تکمیل کا کوئی بھی دُوسرا ذریعہ اللہ کی نعمت کا کفر ہے ،  مگر ابلیس کی وحی پر عمل کرنےو الوں کو رحمان کی وحی سمجھ نہیں آتی ،
::: اِنسانی تاریخ میں ہم جنسی کی ابتداء:::
 کی خبر بھی ہمیں کائنات کے اکیلے خالق و مالک نے  اپنے نبی لوط علیہ السلام کے اِس قول کا ذِکر فرماکر دی ہے کہ (((وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّنَ الْعَالَمِينَ O إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّن دُونِ النِّسَاءِ ۚ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ ::: اور جب لوط نے اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ ایسی بے حیائی کرتے ہو جو تم لوگوں سے پہلے دونوں ہی جہانوں (یعنی اِنسانوں اور جِنّوں ) میں کِسی نے بھی کی (اور وہ یہ ہے کہ )O تم لوگ اپنی جِنسی خواہش پوری کرنے کے لیے عورتوں  کی بجائے مَردوں کو اِستعمال کرتے ہو، تم لوگ تو بالکل ہی حد سے گذر گئے ہو  ))) سُورت الاعراف (7)/آیات80، 81،
قارئین کرام ،  اب یہ بھی دیکھتے چلیے کہ اِنسانی  تاریخی کے سب سے پہلے ہم جِنس پرستی کی  اِس شیطانی وحی پر اِیمان لانے اور اِس پر عمل کرنےو الے اِن "لبرلز"  کا اللہ تعالیٰ نے انجام کیا کیا ، 
اور اِس انجام  کی لپیٹ میں ہر ایک  "لبرل" آ گیا ، حتیٰ کہ نبی لوط علیہ السلام کی بیوی کو بھی نہیں چھوڑا گیا ،
(((فَأَنجَيْنَاهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ O وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًافَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِينَ::: تو ہم  نے لوط کو ، اور اُس کے گھر والوں کو  (اُس عذاب سے ) بچا لیا   ،سِوائے لوط کی بیوی کے وہ  پیچھے  (اُن ہی ہم جِنس پرستوں میں  ہی)رہ جانے والوں میں سے تھی O  اور ہم نے اُن (ہم جِنسوں ) پر (مٹی کے کنکروں کی) بارش کر دِی ، پس دیکھو کہ  جُرم کرنے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے ))) سُورت الاعراف (7)/آیات83، 84،
ایک انتہائی خوفناک چیخ نُما آواز سے اِس عذاب کا  آغاز ہوا،
(((فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُشْرِقِينَ:::  تو پھر صُبحُ ہوتے ہی ایک انتہائی خوفناک چیخ نُما آواز نے اُن لوگوں کو آن پکڑا ))) سُورت الحجر (15)/آیت73،
اور پوری کی پوری بستی ہی اُلٹا دِی گئی اور پھر اُس پر پتھروں کی بارش کی گئی ، یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن ہم جِنس پرست "لبرلز" کو رجم (سنگسار) کیا گیا ،
(((فَجَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ:::پس ہم نے اُس بستی کا اُوپری حصہ اُس کا نچلا حصہ بنا دِیا (یعنی اُسے زمین سے اکھاڑ کر ، پھر اُلٹا کر کے زمین پر مار دِیا ) اور اُن لوگوں پر کنکروں کی بارش کی  ))) سُورت الحجر (15)/آیت74،
پس یہ بات یقینی ہے کہ  ہم جِنسی بھی ایک ایسا جُرم ہے جِس کی سزا اللہ تعالیٰ دُنیا میں بھی دیتا ہے ، خواہ وہ کِسی بھی صُورت میں ہو ، لیکن بہرحال  وہ انتہائی دردناک بھی ہوتی ہے اور ناقابل واپسی بھی ، جیسا کہ  آج کے دور میں ہم سب کے سامنے اِن ہم جِنس پرستوں میں پائی جانےو الی طرح طرح کی خوفناک اور نا قابل عِلاج جِنسی ، نفسیاتی اور دیگر جسمانی بیماریاں ہیں ،  اُن بیماریوں کی خوفناک چیخیں اور دھاڑیں اُن میں مبتلا مریضوں کے اندر گونجتی ہی رہتی ہیں ، جِن میں اکثر اُن کے منہوں سے بھی نکلتی ہیں ،
یہ سب درحقیقت اللہ تعالیٰ کے عذاب ہی تو  ہیں ،  ایسے عذاب جِنہیں ابلیس کی وحی پر عمل کرنے والے سمجھ نہیں پاتے ، اور اِنسان کو اِنسانیت سے خارج کرنے کے لیے اُسے اُس کی ہر خواہش کی کِسی بھی طور کی تکمیل کی راہ پر چلانے کی کوشش  میں اپنی ، اور دُوسروں کی دُنیاوی اور اُخروی دونوں ہی زندگیوں کو عذاب سے بھر لیتے ہیں ،
اِن ہم جِنس پرست "لبرلز" کے بارے میں اللہ عزّ و جلّ نے اپنے  طور پر  تو جو عذاب مقرر فرما رکھے ہیں اُن سب کا عِلم اُسی کو ہے ، اُن عذابوں کے عِلاوہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  کی ز ُبان مُبارک سے یہ سزا بھی مُقرر کروا    رکھی ہے کہ (((مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ:::  تم لوگ جِس کِسی کو بھی لوط (علیہ السلام ) کی قوم والا عمل کرتے دیکھو تو کرنے والے اور جِس کے ساتھ کیا جائے دونوں کو ہی قتل کر دو )))  [1]،
میرے محترم مُسلمان بھائیوں بہنوں ، اُمید کرتا ہوں کہ ، اِن شاء اللہ ، ہمارے اللہ پاک کے اِن مذکورہ بالا فرامین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ز ُبان مُبارک سے اعلان کروائی گئی اِس سزا کو جاننے کے بعد آپ میں سے کوئی بھی کِسی "نام نہاد اِنسانی حقوق کی آزادی" کے کِسی  حامی جو اصل میں ابلیس کے پیروکار ہیں ، اُس کی وحی کی تبلیغ کرتے ہیں ، اور ہمارے ، اور اُن کے رب حتیٰ کہ ابلیس کے بھی رب اللہ جلّ جلالہُ کی وحی کے خلاف لیے چلتے ہیں ، اُن  "دِینی یا دُنیاوی   لبرلز " کے کِسی بھی فسلفے کا شِکار ہو کر اللہ تعالیٰ کی کِسی نافرمانی کو کِسی اِنسان کا حق نہیں سمجھیں گے ،
آخر میں ایک بات اور کہنا چاہتا ہوں کہ :::
"""اللہ پاک کے کِسی بھی حکم کی نافرمانی کرنے کو اِنسانی حقوق سمجھنا معاذ اللہ ، یہ سمجھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق اِنسان پر ظلم کیا اور اُسے اُس کے حقوق نہیں دیے ، ایسا سمجھنا بلا شک و شبہ کفر ہے کیونکہ  (((إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْئًا وَلَٰكِنَّ النَّاسَ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ::: بے شک اللہ  تو لوگوں پر بالکل  بھی  ظلم نہیں کرتا ، بلکہ لوگ (ہماری نافرمانی کر کے ) خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں  ))) سُورت یُونُس  (10)/آیت44،
اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے کسی گناہگار پر بھی کوئی ظلم کیا ہے  (((وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَٰكِن كَانُوا هُمُ الظَّالِمِينَ::: اور ہم نے اُن پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی (اپنے آپ پر ) ظلم کرنے والے تھے ))) سُورت الزُخرف (43)/آیت76، بلکہ اللہ تو اپنے بندوں پر رحم کرنے والا ہے ، اِسی لیے تو  اُن کے ہر کام کا انجام بتا کر اُنہیں  خبردار کیا ہے (((يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ:::   اُس (قیامت والے )دِن  ہر جان اپنے  کئی ہوئی ہر ایک نیکی کو اپنے سامنے پائے گی، اور ہر ایک بدی کو بھی ، اور چاہے گی کہ کاش اُس کے اور اُس کی بدی کے درمیان  بہت ہی دُوری ہو جاتی، اور اللہ  تم لوگوں کو اُس کی ذات (اور گرفت اور عذاب ) سے ڈراتا ہے، اور اللہ تو بندوں پر نہایت شفقت (اور نرمی ) کرنے والا ہے  ))) سُورت آل عمران  (3)/آیت30،
(((إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ::: بے شک اللہ تو لوگوں کے لیے بہت شفقت اور رحم کرنے والا ہے  ))) سُورت بقرہ   (2)/آیت143،
اور مُسلمانوں کے لیے تو خصوصی شفقت و رحمت ہے (((هُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ عَلَىٰ عَبْدِهِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ لِّيُخْرِجَكُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَإِنَّ اللَّهَ بِكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ  ::: اللہ ہی ہے جِس نے اپنے بندے (محمد ) پر واضح نشانیاں   )))  """،
پس اِیمان رکھیے کہ  اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ ہر پابندی ، اللہ تعالیٰ کا ہر حکم اُس کے بندوں کی خیر کے لیے ہی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں پر اُس کی رحمت  ہی ہے ،  اور ہر اُس سوچ سے نہ صِرف خود بچیے بلکہ سب کو بچانے کی کوشش کیجیے جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی طرف لے جاتی ہو ، خواہ اُس کا عنوان کتنا ہی دلکش ہو ۔و السلام علیکم،
طلب گارء دُعاء ، عادِل سُہیل ظفر ۔
تاریخ کتابت : 18/10/1438ہجری، بمُطابق، 12/07/2017عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون  کا نسخہ درج ذیل ربط پر موجود ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


[1]   سُنن الترمذی /کتاب الحدود/باب24، سُنن ابو داؤد /کتاب الحدود /باب29، سُنن الدراقُطنی /کتاب الحدود والدیّات، صحیح ابن حبان / کتاب الحدود /باب2، سُنن ابن ماجہ /کتاب الحدود/باب 12، اِمام البانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دِیا ۔