Saturday, February 17, 2018

::: کیا ہماری اُمت شرک سے محفوظ ہے ، مُسلمان اور شرک :::

::: کیا ہماری اُمت شرک سے محفوظ ہے ،  مُسلمان اور شرک  :::
بِسمِ اللَّہِ الرِّحمٰنِ الرِّحیم
الحَمدُ لِلّہِ وَحدہُ الذی لا اِلہَ اِلاَّ ھُو ،  و لا أصدق مِنہ ُ قِیلا ،  و الَّذی أَرسلَ رَسولہُ بالھُدیٰ و تبیّن مَا ارادَ ، و الصَّلاۃُ و السَّلام عَلیَ مُحمدٍ عبد اللَّہ و رسولِ اللَّہ ، الَّذی لَم یَنطِق عَن الھَویٰ و الَّذی أمانۃ ربہِ قد اَدیٰ ،
شروع اللہ کے نام سے جو بہت ہی مہربان اور بہت رحم کرنے والا ہے ،
سچی اور خالص تعریف کا حق دار اللہ ہی ہے ، جس کے عِلاوہ کوئی بھی اور سچا اور حقیقی معبود نہیں ، اور جس سے بڑھ کر سچ کہنے والا کوئی نہیں ، اور جس نے اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ بھیجا اور وہ سب کچھ واضح فرما دیا جسے واضح کرنے کا اللہ نے ارداہ کیا ، اور سلامتی ہو اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول محمد(صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ) پر ، جو کہ اپنی خواہش کے مُطابق نہیں بات نہیں فرماتے تھے  ، اور جنہوں نے اپنے رب کی امانت مکمل طو رپر  دی،
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
ہمارے ہاں جِس کا جو جی چاہتا ہے ، سوچ لیتا ہے ، اور اپنی سوچوں کو اِسلامی عقائد ثابت کرنے کے لیے قران کریم اور احادیث شریفہ کے اپنے ہی مفاہیم بنا لیتا ہے ،
ایسے معاملات میں سے ایک معاملہ لوگوں کو اُن میں پھیلائے اور پائے جانے والے شرکیہ امور  کے بارے میں مطمئن رکھنا بھی ہے کہ ’’’  اجی نہیں ، آپ تو کلمہ گو مُسلمان ہیں ، اُمتء محمد ہیں ، لہذا آپ تو شرک سے محفوظ و مامون ہیں ‘‘‘ ،
اور کچھ  عِلمی اور اِسلامی انداز  اِس غلط فہمی کو تقویت دینے کے لیے درج ذیل حدیث شریف کو اِستعمال کیا جاتا ہے :::
(((وَإِنِّى لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا ، وَلَكِنِّى أَخْشَى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوهَا:::  اور میں تُم لوگوں  کے بارے میں اِس بات کا اندیشہ نہیں رکھتا کہ تم لوگ شِرک کرو گے ، لیکن مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تم لوگ دُنیا داری میں ایک دُوسرے سے مقابلہ کرو گے ))) [1]،
سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیجیے کہ اِس میں کِسی خاص قِسم کے شِرک کی بات نہیں ، بلکہ عمومی طور پر شِرک کا ذِکر ہے ، جِس میں ہر قِسم کا شِرک شامل ہے ، ظاہری بھی اور باطنی بھی ،  اعمال کا بھی اور عقائد کا بھی ، چھوٹا بھی اور بڑا بھی ،
 حیرت ، بلکہ دُکھ ناک حیرت کی بات ہے کہ  کچھ  لوگ  اپنے  کلمہ گو مُسلمان بھائی بہنوں میں  اپنے شرکیہ عقائد و افعال کی ترویج کے لیے   کِسی معاملے ، کِسی مسئلے کے بارے میں صِرف ایک آدھ خبر ہی کیوں سامنے لاتے ہیں ؟؟؟
کیا یہ اُن کی لاعلمی ہے ؟؟؟جہالت ہے ؟؟؟ یا  وہ لوگ حق کو جانتے بوجھتے ہوئے ، اُسے چُھپانے کی کوشش کرتے ہیں ؟؟؟
اِس حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرمان کا مفہوم بہت واضح ہے کہ """ مجھے میری اُمت کے بارے میں یہ اندیشہ نہیں ہے کہ  میری ساری ہی اُمت شِرک کو شِرک جاننے اور سمجھنے کے بعد بھی شِرک کرے گی """،
قارئین کرام میری مذکورہ بالا بات  میں سے """ شِرک جاننے اور سمجھنے کے بعد بھی """ پر خصوصی  توجہ فرمایے گا ،
یہ بات میں اپنی کِسی  ذاتی رائے یا سوچ کی وجہ سے نہیں کہہ رہا  ،
جی ہاں ، یہ مذکورہ بالا  مفہوم  ہمیں   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دیگر فرامین کے مُطابق مُیسر ہوتا ہے ،
آیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے کچھ اور فرامین مُبارکہ کا مُطالعہ کرتے ہیں ،
(((لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَضْطَرِبَ أَلَيَاتُ نِسَاءِ دَوْسٍ عَلَى ذِى الْخَلَصَةِ ::: اُس وقت قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک (قبیلہ) دوس کی عورتیں  ذی الخلصہ (نامی بت ) کا (زور اور تیزی کے ساتھ) طواف نہ کرنے لگیں گی))) [2]،
کوئی بھی مُسلمان اِس  سے اِنکار نہیں کر سکتا کہ کِسی بُت کا طواف کرنا شِرک ہی ہے ،  تو معاملہ صاف  ہوا کہ اُمت ء محمدیہ ساری کی ساری شِرک سے محفوظ نہیں ، بلکہ قیامت سے پہلے اُمت کے کئی افراد ، کئی  گروہ شِرک کریں گے ،
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا  یہ اِرشاد مُبارک بھی پڑھیے (((لاَ يَذْهَبُ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى تُعْبَدَ اللاَّتُ وَالْعُزَّى ::: رات اور دِن اُس وقت تک ختم نہ ہوں گے جب تک کہ لات اور عُزیٰ کی عِبادت نہ کر لی جائے  ))) ،
کِسی مُسلمان کو اِس میں شک نہیں ہو سکتا کہ لات اور عُزیٰ قبل از اِسلام کے عرب کفار و مُشرکین کے باطل معبُود  یعنی خُدا تھے ،  اور اِن کی عِبادت شِرک تھی ، شِرک ہی رہے گی،
اِس شِرک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اُمت میں سے وہ لوگ مبتلا ہوں گے ، جِن کے دِلوں میں درحقیقت اِیمان داخل ہی نہیں ہوا ہوگا ، وہ فقط مُسلمان ہوں گے ، صاحبء ایمان نہیں ،
یہ بات بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ہی بتائی ، جب اُن کا یہ مذکورہ  بالا فرمان سُن کر اُم المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی کہ """ اے اللہ کے رسول ، جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان نازل کیا کہ (((هُوَ الَّذِى أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ:::وہ اللہ ہی تو ہے جِس نے اپنے رسول کو ہدایت اور حق دِین کے ساتھ بھیجا تا کہ اُس حق دِین کو  ہر دِین پر غالب کر دے خواہ  ایسا ہونا مشرکوں کو کتنا ہی بُرا لگے   ))) تو میں یہ سمجھی کہ یہ ہمیشہ کے لیے ہے """،
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا (((إِنَّهُ سَيَكُونُ مِنْ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ رِيحًا طَيِّبَةً فَتَوَفَّى كُلَّ مَنْ فِى قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَيَبْقَى مَنْ لاَ خَيْرَ فِيهِ فَيَرْجِعُونَ إِلَى دِينِ آبَائِهِمْ:::  جب تک اللہ چاہے گا ایسا ہی ہوگا (جیسا کہ اُس نے اِس آیت شریفہ میں بیان فرمایا ہے) پھر اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ  خُوشبو دار ہوا بھیجے گا  اور ہر اُس شخص کو موت دے گا جِس کے دِل میں سرسوں  کے دانے برابر بھی اِیمان ہو گا ، پس صِرف وہ لوگ باقی بچیں گے جِن میں کوئی خیر نہ ہوگی اور وہ اپنے بڑوں کے دِین کی طرف پلٹ جائیں گے  )))[3]،
پس ، واضح ہو گیا کہ اُمتء محمد علی صاحبھا افضل الصلاۃ و التسلیم، ساری کی ساری  اور   ہمیشہ کے لیے  شِرک میں مبتلا ہونے سے محفوظ نہیں ، بلکہ قیامت کے نزدیک تو اِس اُمت میں صِرف وہ لوگ ہی رہ جائیں گے جو باطل معبُودوں کی عِبادت کریں گے ، جِس کی ابتداء صدیوں سے ہو چکی ہے، جیسا کہ اللہ کے  بندوں میں سے واقعتا کچھ نیک ، یا کچھ نیک نام بندوں کی عِبادت ، خاص طور پر ایسے بندوں کی جو مر چکے ہیں ، دُنیا اور دُنیا کے تمام تر معاملات سے اُن کا ہر تعلق منقطع ہو چکا ہے ، سوائے اُن کے اپنے اُن اعمال  کا اجر پانے کے جو وہ اپنی موت سے پہلے دُنیا میں کر گئے ، اُن شخصیات کو اللہ تعالٰی کے کاموں میں تصرف کرنے کاحق دار سمجھتے ہوئے  اُن سے اپنی دُنیا اور آخرت کی مُشکلات دُور کرنے کے لیے  پُکارنا،
اِس مذکورہ بالا حدیث میں سے (( (فَتَوَفَّى كُلَّ مَنْ فِى قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ:::  ہر اُس شخص کو موت دے گا جِس کے دِل میں سرسوں  کے دانے برابر بھی اِیمان ہو گا))) کے بارے میں کچھ کو یہ غلط فہمی بھی ہوتی ہے کہ’’’ اِس کے بعد جو لوگ بچیں گے وہ تو بے ایمان کافر ہوں  گے ، اُمتء محمد نہ ہوں گے ‘‘‘،
تو  اِس کا جواب یہ  ہے کہ اُن بچے ہوئے لوگوں میں اُمت ء محمد کے لوگ بھی ہوں گے ایسے لوگ جو بظاہر مسلمان ہی ہوں گے ، لیکن اُن کے دِلوں میں سرسوں کے دانے کے برابر بھی اِیمان نہ ہو گا ،   اِس بات کو سمجھنے کے لیے ، تحمل و تدبر کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ درج ذیل فرمان پڑھیے اور سمجھیے :::
(((وَلاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِى بِالْمُشْرِكِينَ وَحَتَّى تَعْبُدَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِى الأَوْثَانَ::: اور اُس قت تک قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک کہ میری اُمت کے کچھ قبیلے مُشرکین کے ساتھ نہ مل جائیں گے ، اور جب تک میری اُمت میں سے  (وہ)قبیلے  غیر اللہ کی عِبادت نہ کرنے لگیں گے )))[4]،
قارئین کرام ، اِس مذکورہ بالا حدیث شریف میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے بڑی وضاحت سے بتا دِیا ہے کہ اُن کی اُمت میں کوئی چند لوگ نہیں ، بلکہ قبیلے شِرک کریں گے ، اللہ کے عِلاوہ دُوسروں کی عِبادت کریں گے ، کیا اب دیکھتے نہیں کہ واقعتا قبیلوں کے قبیلے  غیر اللہ کی عِبادت کرتے ہیں ، کِسی کو  اللہ تعالیٰ کے عِلاوہ مشکل کُشا مان کر  ،کِسی کو حاجت رَوا، کِسی کو داتا، کِسی کو اولاد دینے والا، کِسی کو مال و دولت دینے والا مان کر اُن لوگوں سے اپنی مشکلیں حل کروانے کے لیے ، اپنی حاجت رَوائی کے لیے اُن کی قبروں کے طواف کرتے ہیں ، قبروں کو سجدے کرتے ہیں ، اُن فوت شُدہ لوگوں کے نام کی نمازیں پڑھتے ہیں ، اُن کی قبروں پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں ،  اور کچھ زندوں کو بھی سجدے کرتے ہیں ، اور شِرک کیسا ہوتا ہے ؟؟؟
پس واضح ہوا کہ سب سے پہلے ذِکر کی گئی حدیث شریف سے  یہ ہر گِز مُراد نہیں کہ """ اُمتء محمد علی صاحبھا افضل الصلاۃ و التسلیم، ساری کی ساری  اور   ہمیشہ کے لیے  شِرک میں مبتلا ہونے سے محفوظ  ہے """،
بلکہ اُمت میں وقتا    ً   فوقتا     ً   کئی گروہ شرک کا شِکار ہوتے رہیں گے ، اور ایک وقت ایک بھی آئے گا جب اُمت میں سوائے شرک کرنے والوں کے اور کوئی  باقی نہ رہے گا ،
اللہ تعالیٰ ہمیں حق پہچاننے ، ماننے ، اپنانے اور اُسی پر عمل پیرا رہتے ہوئے اُس کے سامنے حاضر ہو کر اُس کی رضا پانے والوں میں سے بنائے ، والسلام علیکم،  طلب گارء دُعاء ، عادِل سُہیل ظفر ،
تاریخ کتابت : 19/08/1431 ہجری، بمُطابق ، 31/07/2010 عیسوئی  ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر مُیسر ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


[1]   صحیح بُخاری /حدیث /4042کتاب المغازی/باب17،
[2]   صحیح بُخاری /حدیث /7116کتاب الفتن/باب23، صحیح مُسلم  /حدیث /7482کتاب الفتن و أشراط الساعۃ   /باب17،
[3]   صحیح مُسلم  /حدیث /7483کتاب الفتن و أشراط الساعۃ   /باب17،
[4]   سُنن ابو داود /حدیث /4254کتاب الفِتن /پہلا باب ، اِمام البانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دِیا،

Wednesday, January 31, 2018

::: دیت اللہ کا قانون ہے، سوچ سمجھ کر بات کیجیے :::

::: دیت اللہ کا قانون ہے، سوچ سمجھ  کر بات کیجیے  :::
بِسّمِ اللَّہِ الرَّحمٰن الرَّحِیم ، و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلیٰ رسولہِ الکریم مُحمدٍ و عَلیٰ آلہِ و أصحابہِ و أزوجہِ أجمعین
السلام علیکم ورحمۃ ُ اللہ و برکاتہ،
ہمارے مُسلم معاشرے میں اللہ تعالیٰ ، اُس کے دِین ، اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  کے دُشمنوں کی دسیسہ کاریوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہماری صفوں میں ، ہماری ہی نسلوں میں سے، ہمارے ہی رنگ و روپ میں ، ہماری ہی ز ُبانوں میں بات کرنے والے ، اور ہماری ہی طرح مُسلمانوں جیسے نام لیے ہوئے  ایسے لوگوں  بنا لیے گئے ہیں جو   اپنی اِسلامی شناخت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اِسلام کے خِلاف کام کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے ،
طرح طرح کے پر فریب الفاظ کی آڑ میں  ، اُمت اسلام کے ہاں ہمیشہ سے  متفق علیھا مسائل کا اِنکار ، اُن مسائل کو فی زمانہ ناقابل نفاذ کہنا ، اور سمجھانے کی کوشش کرنا ، اِسلام کی بات کرنے والوں کا مذاق اُڑانا ، اُنہیں کم تر اور حقیر دِکھانے کی کوشش کرنا اِن نام نہاد مُسلمانوں کے پسندیدہ ترین مشغلوں میں سر فہرست ہے ،
اِن میں کئی تو ایسے ہیں  جو اپنے کاموں کی حقیقت جانتے  ہیں اور اسلام کے دُشمنوں کے باقاعدہ تنخواہ خور کارندے ہیں ، اور کچھ ایسے ہیں جو حقیقت نہیں جانتے بس غیر اِسلامی افکار سے اس قدر متاثر ہیں کہ جو کچھ وہاں سے ملے گا اُس پر کوئی غور و فِکر کیے بغیر اُسے اپنائیں گے اور اُسی کا رونا روتے ہی رہیں گے ،
اور یہ سب ہی یہ سمجھتے ہی کہ وہ بہت ہی انقلابی ، اصلاحی اور انسانیت کی خیر والے کام کر رہے ہیں جبکہ (((زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَيَسْخَرُونَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ:::  جِن لوگوں نے اِنکار کیا اُن کے لیے دُنیا کی زندگی پر آرائش بنا دی گئی (یہ وہ لوگ ہیں ) جو اِیمان لانے والوں کا مذاق اُڑاتے ہیں ، اور قیامت والے دِن تقویٰ والے  لوگ اِن (اِنکار کرنے والوں)  سے بلند (مُقام ) ہوں گے )))سُورت البقرہ (2)/آیت 212،
اپنے اختیار کردہ ، یا مسلط شدہ آقاؤں کی پیروی کرنے  کے لیے انہیں نہ تو اُمت کے أئمہ کرام اور علما ء کرام کی عزت کا احساس رہتا ہے ، نہ ہی اُن کے عِلم کا، خیر عِلم کا اندازہ تو اُسے ہی  ہو سکتا ہے جو عِلم کے بارے میں کچھ جانتا ہو، اور جو نفس کی وحی پر چلنے والا ہو اُسے عِلم کی کیا خبر ،
أئمہ او رعلماء تو رہے ایک طرف ، اِن  جدت پسند ، خود ساختہ مفکر ان و مدبران  کے لیے تو صحابہ رضی اللہ عنہم ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ، اور پھر اللہ تبارک  وتعالیٰ تک کے فرامین پر اعتراض کرنا اور اُن کا اِنکار کرنا  معمولی سی بات ہے ،
ایسے کئی مسائل اور موضوعات ہیں جو اِن لوگوں کی دھندلی عقلوں  کی اندھیر نگریوں میں سے اٹھنے والے متعفن افکار کی بدبو دے کر ہمارے معاشرے میں پھیلائے جا رہے ہیں ، لیکن عقل ، تدبر ، فہم و فراست ، وقت کی ضرورت ، مصلحت، وغیرہ جیسے الفاظ کے عِطر لگا کر ،
انہی مسائل میں سے ایک مسئلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ دیت کا قانون ہے ، جِس کے خِلاف کافی ہرزہ سرائی کی جا رہی ہے ، اور  اِس ہرزہ سرائی کا سبب  جہانزیب کے والدین کی طرف سے دیت لے کر اپنے بیٹے کے قاتل سے قصاص لینے سے دستبرداری کا واقعہ بنایا گیا ہے ،
یہاں میں کوئی لمبی چوڑی بات نہیں کروں گا ، اور نہ ہی قران و حدیث  میں سے  دیت کے حق میں دلائل پیش کروں گا ، کیونکہ میرا حسنء ظن ہے کہ دِین کے بارے میں بنیادی معلومات رکھنے والا مسلمان بھی یہ جانتا اور مانتا ہی ہے کہ دیت کا قانون اللہ پاک کا مقرر کردہ ہے اور بلا شک و شبہ بے عیب اور حق ہے ،
میں اللہ تعالیٰ کے دِین کے معاملات کے خِلاف زہر اگلنے والوں اور اُس زہر کا شِکار ہونے والوں  کے سامنے صِرف کچھ سوالات پیش کرنا چاہتا ہوں ،اور مجھے اُن صاحبان سے اِن سوالات کے جوابات درکار نہیں ،
وہ اپنے جوابات پر خود ہی غور کریں ، اور جو جواب میں پیش کروں گا اُس پر بھی غور کر ہی لیں ،
ثابت شدہ قاتل یا مجرم  کو سزا دینے میں غیر ضروری  تاخیر کرنے کا ، کیا یہ پہلا واقعہ ہے ؟  ؟؟
اچھی طرح سے سمجھ آنے والی  زبردستی سے منوائی گئی دیت کا ، کیا یہ پہلا واقعہ ہے ؟  ؟؟
کیا  اِس سے پہلے مختلف مُسلم معاشروں میں ایسے واقعات نہیں ہوتے رہے ؟  ؟؟
کوئی زور آور قاتل   ، کِسی کمزور  وارث سے قصاص معاف کروا لے ، دیت لینے پر راضی کر لے ، یا دیت لینے پر مجبور کر دے تو کیا دیت کا قانون  غلط ہوا ؟  ؟؟
اگر  اصحابء اختیار قاتل پر حد جاری نہیں کر پاتے ، تو کیا قصاص کا قانون غلط ہے ؟  ؟؟
جی نہیں ، اور  ہر گز نہیں ، اللہ جلّ شانہ ُ  کا ، اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا ہر قول حق ہے ، ہر حکم ، ہر قانون حق ہے ، جو کوئی اِن احکام و قوانین کو نا مناسب انداز میں استعمال کرے ، اور جو کوئی صاحب اختیار و قدرت انہیں نافذ نہ کر پائے وہ غلط ہے اور سراسر غلط ہے ،
دیت کا قانون اللہ العزیز الحکیم کا بنایا ہوا قانون ہے ، اِس کے غلط، یا، نا مُناسب ، یا ، فی زمانہ رائج نہ ہو سکنے والا ہونے کا سوچنا بھی کفر ہے ، اللہ عزّ و جلّ پر الزام ہے ،
ایسی باتیں کہنے والوں ، اور اِن باتوں کی حقیقت جانے سمجھنے بغیر ہی انہیں مان کر اُن  کا پرچار کرنے والوں  نے کبھی یہ کیوں نہیں سوچا کہ غلط وہ قوانین نہیں جو اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے مقرر فرما دیے ، بلکہ غلط وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اُس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے قوانین کی بجائے عام اِنسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کو اپنا کر ، ایسے لوگوں کو اختیارات سونپتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ سے کوئی لگاؤ نہیں ، اور نہ ہی اللہ کے دِین سے ، اُن کا ھدف صرف دُنیاوی زندگی کی لذتیں پانا  ہے ،  جو ظاہر کرتا ہے کہ یوم آخرت ،حساب ، سزا و جزاء پر ایمان نامی چیز اُن کے ہاں  مفقود ہے پس اُن کے عمل اُن کے لیے اس قدر پر آرائش کر دیے گئے ہیں کہ وہ اُن کی چکا چوند میں  حق کو دیکھ سکنے کی بصیرت کھو چکے ہیں ۔
اللہ پاک ہم سب کو اور ہمارے سب کو حق جاننے ماننے اپنانے اور اُسی پر عمل پیرا رہتے ہوئے اُس کے سامنے حاضر ہونے والوں میں سے بنائے ، والسلام علیکم۔
تاریخ کتابت : 07/04/1439ہجری، بمُطابق، 25/12/2017عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر مُیسر ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔