Wednesday, September 20, 2017

::::::: پانچ خطرناک کُلیے ::::::


::::::: پانچ خطرناک  کُلیے ::::::
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
و الصَّلاۃُ والسَّلامُ عَلیٰ رَسولہ ِ الکریم مُحمدٍ و عَلیَ آلہِ وَأصحابہِ وَأزواجِہِ وَ مَن تَبِعَھُم بِاِحسانٍ إِلٰی یَومِ الدِین ، أما بَعد :::
السلام علیکم ورحمہُ اللہ و برکاتہ ُ ،
اِنسانی زندگی میں  بہت سے کام  انتہائی خوفناک نتائج کا سبب ہوتے  ہیں ، دُنیاوی طور پر بھی ، اور اُخروی طور پر بھی ، اور کچھ کام جب ایک دُوسرے کے ساتھ مل جائیں تو اُن کے نتائج بہت ہی خطرناک ہو جاتے ہیں ، آیے آپ کو  ایسے ہی کچھ کُلیوں کے بارے میں بتاتے ہیں  جو کچھ کاموں کے جمع ہونے سے وجود میں آتے ہیں ،  
:::   پہلا کُلیہ  ::: تنہائی+  فراغت   =شیطانی وسوسے،،،
لہذا اگر آپ اپنی تنہائی اور فراغت میں اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اطاعت  میں مشغول نہیں کریں گے تو آپ کا نفس آپ کو اللہ اور اُس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم  کی نافرمانی میں مشغول کر دے  گا،
دُوسرا کُلیہ  ::: غفلت + سوچ  و فکر کو وسوسوں کے ساتھ چھوڑ دینا = گناہ میں مبتلا ہونا،،،
لہذا اگر آپ دِل و دماغ  کو اللہ عزّ و جلّ  کی یاد سے غافل رکھیں گے تو وہ شیطانی و نفسانی وسوسوں کی آماجگاہ بن جائے گا ،  اور پھر ذہنی سوچ و فِکر بھی اُن وساوس کے ساتھ ہو کر چلنے لگیں گے ،  اور  پھر آپ گناہوں میں ملوث ہوتے ہوتے عادی   گناہ گار بن جائیں گے ،
::: تیسرا کُلیہ  ::: نظر کو کھلا چھوڑے رکھنا + حرام اور باعث فتنہ چیزوں کے بارے میں سوچنا =دل و دِماغ کا گندہ ہونا ،،، اور پھر کسی مزید بڑے  گناہ میں جا پھنسنا ،
نظر ابلیس کے زہریلے تیروں میں سے ایک تِیر ہے ، ایسا تِیر جو چلانے والے کو دُوسرے کی نِسبت کہیں زیادہ  گھائل کرتا ہے ، اور ابلیس کے زہر کا شکار بنا ڈالتا ہے، لہذا اگر آپ اپنی نظر کی حفاظت نہیں کریں گے تو اپنے دِل و دماغ کو بھی گناہ سے بچا نہیں پائیں گے ،  
کِسی شاعر نے بہت ہی خُوب کہا ہے کہ :
كلُّ الحوادثِ مَبدأُها مِن النَّظر  :::  ومُعظَمُ النارِ مِنْ مُستَصْغرِ الشَرِرِ
كْم نظرةٍ فعلتْ في قلب صاحبها........ فِعْلَ السهامِ بلا قوسٍ ولا وتـرِ
تمام تر حادثات کی ابتداء نظر کی وجہ سے ہوتی ہے ::: اور آگ کے بڑے بڑے ألاؤ چھوٹی سی چنگاری کے سبب ہوتے ہیں
کتنی نظریں ایسی ہوتی ہیں جو اپنے  مالک کے دِل میں :::  کِسی کمان اور وَتر کے بغیر ہی تِیر والا کام کرتی ہیں ،
::: چوتھا کُلیہ  ::: دِین داروں ، نیکوکار لوگوں کی صُحبت سے دُوری +دُنیاوی مشغولیت میں رہنا= دِل و دماغ میں اللہ کے احکام کی اہمیت ختم  ہونا  ،،،
اِنسان اپنے نفس کے سامنے کمزور ہوتا ہے ، اور اللہ  پاک کی مشیئت سے  اپنے اِیمان اور تقویٰ والے بھائیوں کی صُحبت اللہ  تعالٰی کے احکام کی اہمیت جانتا ہے ، اور اپنے نفس کو قابو کرنے کے گُر سیکھتا ہے ، اور قابو کرتا ہے ،
لہذا اگر آپ اپنے لیے صاحب اِیمان لوگوں میں سے تقویٰ والے لوگوں کی صُحبت حاصل نہیں کریں گے تو  بلا شک و شبہ اپنے نفس کے  ،ابلیس اور اُس کے پیروکاروں کے وسوسوں میں بھٹک جائیں گے ،    اور کبھی کِسی ایسے مُقام تک نہ پہنچ پائیں گے جِس کا کوئی اچھا انجام ہو ، خاص طور پر آپ کی ہمیشہ رہنے والی زندگی میں،
::: پانچواں کُلیہ  ::: چھوٹے  گناہوں کو معمولی سمجھنا +اپنی نیکیوں کو بہت جاننا = اللہ تعالیٰ کی مزید   نافرمانیوں میں پھنسنا اور نیکیوں سے دور ہونا،،،
جو کوئی   اپنے گناہوں کو  گناہ ہی نہیں سمجھتے ، یا اُنہیں کچھ نُقصان والا عمل نہیں سمجھتے ، یا صِرف اللہ تعالٰی کی رحمت اور مغفرت کے مل ہی جانے کے  زعم میں رہتے ہیں ، اور جو کوئی چھوٹی موٹی نیکی کرتے ہیں تو  اُسے بہت کچھ سمجھتے ہیں اور ُاس کے بدلے میں بہت  سا ثواب ملنے کا خیال کیے رکھتے ہیں ، تو نتیجۃً وہ اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ ناراضگی اور عذاب سے غفلت کا شکار ہوتے ہوتے ، مزید در مزید گناہوں میں دھنستا جاتا ہے ،
لہذا چھوٹے سے چھوٹے گناہ سے بچنے کی بھر پور کوشش کیا کیجیے ، اور اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کی رحمت و مغفرت ، غصہ ، ناراضگی اور عذاب ، سب ہی صِفات کو ہمیشہ یاد رکھا کیجیے ،اِن میں سے  کچھ کو بھول جانا اور کچھ کو یاد رکھنا، یا کچھ کے مل جانے اور کچھ سے محفوظ  رہنے کے زعم میں مبتلا رہنے سے بچا کیجیے ، تا کہ اللہ کی محبت، اللہ کی رحمت اور مغفرت کے حاصل ہونے  کی امید بھی رہے ،  اور اس کی ناراضگی اور  عذاب کا خوف بھی رہے ، یہی ایک سچے اِیمان والے کی حالت ہوتی ہے ،
یاد رکھیے وہ شخص جاھل ہوتا ہے جو اپنے نفس کے خیالات کی پیروی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ  کے بارے میں ایسی اُمیدیں لگائے ہوتا ہے جِن کی اللہ تعالیٰ  اور اُس کے رسول  کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے کوئی خبر نہیں ہوتی ،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اور ہر ایک کلمہ گو کو درست عقائد اپنانے اور اُن کےمُطابق دُرُست عمل کرنے کی ہمت دے ،
والسلام علیکم،طلب گارء دُعاء ، عادِل سُہیل ظفر ،
تاریخ کتابت : 07/03/1433ہجری، بمُطابق،30/01/2012عیسوئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر مُیسر ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔